Library Banner
Image from Google Jackets

کُلیاتِ فراق گور کھپوری

By: Material type: TextPublication details: لاہور الحمد پبلی کیشنز 2014DDC classification:
  • 891.439 AAB
Summary: :فہرست ۔ حق ادا نہ ہوا ۔ گردنِ شیشہ جو ساغر پہ جھکی اے ساقی ۔ نگہ ناز سے وہ نغمہ سنا آج مجھے ۔ یوں نی زندگی نظرآی ۔ غبارِ داہ ہو کر اُڑتی ہے خاکِ جہاں اب تک ۔ یہ نگا ہیں بھی نہیں محرم اسرارا بھی ۔ رات بھی نیند بھی کہانی بھی ۔ غزل کے ساز اُٹھاؤ بڑی اُداس ہے رات ۔ سزاے حسن پرستی بجا، بجا بھی نہیں ۔ کچھ نہ کچھ عشق کی تاثیر کا اقرار تو ہے ۔ طور تھا، کعبہ تھا، دل تھا، جلوہ ذارِ یار تھا ۔ لبِ رنگیں کی یاد آتی تھی ۔ فسردگی مہبت پہ مسکراے جا ۔ اس سکوت فضامیں کھو جایں ۔ تجھے بھلایں تو نیند آتے آتے رہ جاے ۔ میں نے مانا حسن میں ناز و نزاکت چاہے ۔ سلسل اُس نگہِ مست سے بندھ کر چھوٹا ۔ حدِ دنیا عدم اور لامکاں دور ۔ کچھ کر لیا نتیجہ تدبیر دیکھ کر ۔ دنیا کو انقلاب کی یاد آ رہی ہے آج ۔ ستاروں سے الجھتا جا رہاہوں ۔ مجھ کو مارا ہے ہر اک درد و دوا سے پہلے ۔ گلہ کوی نہیں جورِ بتاں سے ۔ سو گے افسانہ بے دردی قاتل سے ہم ۔ تم تو چپ رہنے کو بھی رنجش بے جا سمجھے ۔ ترا جمال بھی ہے آج اک جہان فراق ۔ رس میں ڈوبا ہوا لہرا تا بدن کیا کہنا ۔ جو بات ہے حد سے بڑھ گی ہے ۔ غیر مردف ۔ نظمیں ۔ تلاش حیات ۔ آدھی رات ۔ دکان سخن ۔ دل لخت لخت (فردیات)
Tags from this library: No tags from this library for this title. Log in to add tags.
Star ratings
    Average rating: 0.0 (0 votes)
Holdings
Cover image Item type Current library Home library Collection Shelving location Call number Materials specified Vol info URL Copy number Status Notes Date due Barcode Item holds Item hold queue priority Course reserves
Books Senate of Pakistan Library 891.439 AAB (Browse shelf(Opens below)) Available 15147

:فہرست
۔ حق ادا نہ ہوا
۔ گردنِ شیشہ جو ساغر پہ جھکی اے ساقی
۔ نگہ ناز سے وہ نغمہ سنا آج مجھے
۔ یوں نی زندگی نظرآی
۔ غبارِ داہ ہو کر اُڑتی ہے خاکِ جہاں اب تک
۔ یہ نگا ہیں بھی نہیں محرم اسرارا بھی
۔ رات بھی نیند بھی کہانی بھی
۔ غزل کے ساز اُٹھاؤ بڑی اُداس ہے رات
۔ سزاے حسن پرستی بجا، بجا بھی نہیں
۔ کچھ نہ کچھ عشق کی تاثیر کا اقرار تو ہے
۔ طور تھا، کعبہ تھا، دل تھا، جلوہ ذارِ یار تھا
۔ لبِ رنگیں کی یاد آتی تھی
۔ فسردگی مہبت پہ مسکراے جا
۔ اس سکوت فضامیں کھو جایں
۔ تجھے بھلایں تو نیند آتے آتے رہ جاے
۔ میں نے مانا حسن میں ناز و نزاکت چاہے
۔ سلسل اُس نگہِ مست سے بندھ کر چھوٹا
۔ حدِ دنیا عدم اور لامکاں دور
۔ کچھ کر لیا نتیجہ تدبیر دیکھ کر
۔ دنیا کو انقلاب کی یاد آ رہی ہے آج
۔ ستاروں سے الجھتا جا رہاہوں
۔ مجھ کو مارا ہے ہر اک درد و دوا سے پہلے
۔ گلہ کوی نہیں جورِ بتاں سے
۔ سو گے افسانہ بے دردی قاتل سے ہم
۔ تم تو چپ رہنے کو بھی رنجش بے جا سمجھے
۔ ترا جمال بھی ہے آج اک جہان فراق
۔ رس میں ڈوبا ہوا لہرا تا بدن کیا کہنا
۔ جو بات ہے حد سے بڑھ گی ہے
۔ غیر مردف
۔ نظمیں
۔ تلاش حیات
۔ آدھی رات
۔ دکان سخن
۔ دل لخت لخت (فردیات)

:فہرست
۔ حق ادا نہ ہوا
۔ گردنِ شیشہ جو ساغر پہ جھکی اے ساقی
۔ نگہ ناز سے وہ نغمہ سنا آج مجھے
۔ یوں نی زندگی نظرآی
۔ غبارِ داہ ہو کر اُڑتی ہے خاکِ جہاں اب تک
۔ یہ نگا ہیں بھی نہیں محرم اسرارا بھی
۔ رات بھی نیند بھی کہانی بھی
۔ غزل کے ساز اُٹھاؤ بڑی اُداس ہے رات
۔ سزاے حسن پرستی بجا، بجا بھی نہیں
۔ کچھ نہ کچھ عشق کی تاثیر کا اقرار تو ہے
۔ طور تھا، کعبہ تھا، دل تھا، جلوہ ذارِ یار تھا
۔ لبِ رنگیں کی یاد آتی تھی
۔ فسردگی مہبت پہ مسکراے جا
۔ اس سکوت فضامیں کھو جایں
۔ تجھے بھلایں تو نیند آتے آتے رہ جاے
۔ میں نے مانا حسن میں ناز و نزاکت چاہے
۔ سلسل اُس نگہِ مست سے بندھ کر چھوٹا
۔ حدِ دنیا عدم اور لامکاں دور
۔ کچھ کر لیا نتیجہ تدبیر دیکھ کر
۔ دنیا کو انقلاب کی یاد آ رہی ہے آج
۔ ستاروں سے الجھتا جا رہاہوں
۔ مجھ کو مارا ہے ہر اک درد و دوا سے پہلے
۔ گلہ کوی نہیں جورِ بتاں سے
۔ سو گے افسانہ بے دردی قاتل سے ہم
۔ تم تو چپ رہنے کو بھی رنجش بے جا سمجھے
۔ ترا جمال بھی ہے آج اک جہان فراق
۔ رس میں ڈوبا ہوا لہرا تا بدن کیا کہنا
۔ جو بات ہے حد سے بڑھ گی ہے
۔ غیر مردف
۔ نظمیں
۔ تلاش حیات
۔ آدھی رات
۔ دکان سخن
۔ دل لخت لخت (فردیات)

There are no comments on this title.

to post a comment.
Share
v25.05.xx
System implementation by