Library Banner
Image from Google Jackets

کُلیات مجروح سُلطانپوری

By: Material type: TextPublication details: لاہور الحمد پبلی کیشنز 2003DDC classification:
  • 2003 891.4391 م۔ج۔ر
Summary: :فہرست ۔ حرف آغاز ۔ مجروح کی غزل ۔ کچھ یادیں ۔ ایک منفرد اسلوب کا شاعر ۔ مجروح مرحوم ۔ ترقی پسند غزل کے نقیب ۔ شاعر کم سخن مجروح ۔ مجرح کے چند یادِگار فلمی گیت ۔ ختم شوِر طوفان تھا، دور تھی سیاہی بھی ۔ مسرتوں کو یہ ایل ہوس نہ کھو دیتے ۔ دُور دُور مجھ سے وہ اس طرح خراماں ہے ۔ یہ رُکے رُکے سے آنسو یہ دَبی دَبی سی آہیں ۔ آہِ جان سوز کی مجرومیِ تاثیر نہ دیکھ ۔ ڈراکے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کو ۔ جب ہوا عرفاں تو غم آرام جاں بنتا گیا ۔ تقدیر کا شکوہ بے معنی، جینا ہی تجھے منظور نہیں ۔ گیت ۔ چاند پھر نکلا مگر تم نہ آئے ۔ یہ بندھن یے عشق کا ۔ ہم تو محبت کرے گے ۔ متفرق اشعار ۔ مجروح دوسروں کی نظر میں ۔ مالک میں پوچھتا ہوں
Tags from this library: No tags from this library for this title. Log in to add tags.
Star ratings
    Average rating: 0.0 (0 votes)
Holdings
Cover image Item type Current library Home library Collection Shelving location Call number Materials specified Vol info URL Copy number Status Notes Date due Barcode Item holds Item hold queue priority Course reserves
Books Senate of Pakistan Library 891.4391 م۔ج۔ر (Browse shelf(Opens below)) Available 15449

:فہرست
۔ حرف آغاز
۔ مجروح کی غزل
۔ کچھ یادیں
۔ ایک منفرد اسلوب کا شاعر
۔ مجروح مرحوم
۔ ترقی پسند غزل کے نقیب
۔ شاعر کم سخن مجروح
۔ مجرح کے چند یادِگار فلمی گیت
۔ ختم شوِر طوفان تھا، دور تھی سیاہی بھی
۔ مسرتوں کو یہ ایل ہوس نہ کھو دیتے
۔ دُور دُور مجھ سے وہ اس طرح خراماں ہے
۔ یہ رُکے رُکے سے آنسو یہ دَبی دَبی سی آہیں
۔ آہِ جان سوز کی مجرومیِ تاثیر نہ دیکھ
۔ ڈراکے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کو
۔ جب ہوا عرفاں تو غم آرام جاں بنتا گیا
۔ تقدیر کا شکوہ بے معنی، جینا ہی تجھے منظور نہیں
۔ گیت
۔ چاند پھر نکلا مگر تم نہ آئے
۔ یہ بندھن یے عشق کا
۔ ہم تو محبت کرے گے
۔ متفرق اشعار
۔ مجروح دوسروں کی نظر میں
۔ مالک میں پوچھتا ہوں

:فہرست
۔ حرف آغاز
۔ مجروح کی غزل
۔ کچھ یادیں
۔ ایک منفرد اسلوب کا شاعر
۔ مجروح مرحوم
۔ ترقی پسند غزل کے نقیب
۔ شاعر کم سخن مجروح
۔ مجرح کے چند یادِگار فلمی گیت
۔ ختم شوِر طوفان تھا، دور تھی سیاہی بھی
۔ مسرتوں کو یہ ایل ہوس نہ کھو دیتے
۔ دُور دُور مجھ سے وہ اس طرح خراماں ہے
۔ یہ رُکے رُکے سے آنسو یہ دَبی دَبی سی آہیں
۔ آہِ جان سوز کی مجرومیِ تاثیر نہ دیکھ
۔ ڈراکے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کو
۔ جب ہوا عرفاں تو غم آرام جاں بنتا گیا
۔ تقدیر کا شکوہ بے معنی، جینا ہی تجھے منظور نہیں
۔ گیت
۔ چاند پھر نکلا مگر تم نہ آئے
۔ یہ بندھن یے عشق کا
۔ ہم تو محبت کرے گے
۔ متفرق اشعار
۔ مجروح دوسروں کی نظر میں
۔ مالک میں پوچھتا ہوں

There are no comments on this title.

to post a comment.
Share
v25.05.xx
System implementation by